پیر, 21 مئی 2012
فاٹا حکام کی چوری اور سینہ زوری

قبائلی علاقوں میں پولیٹیکل انتظامیہ کی طرف سے سرکاری فنڈز میں اربوں روپے کی ہیرا پھیری کا جواب دینے سے انکار کیا جا رہا تھا بلکہ ہیرا پھیری کو بے نقاب کرنے کی کوشش کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دے دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
بن لادن کی ہلاکت پر ہالی وڈ فلم کی منظوری
osamasmlامریکی فلم ساز ادارے کولمبیا پکچرز کے مطابق اس کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے متعلق فلم کی ڈسٹریبیوشن کے حقوق مل گئے ہیں۔
مزید پڑھیے۔۔۔
 
کرکٹ ورلڈکپ کی فاتح ٹیم کیلئے تیس لاکھ ڈالر مقرر

short descriptionورلڈ کپ کرکٹ 2011ء کی فاتح ٹیم کو تیس لاکھ ڈالر کی انعامی رقم ملے گی ۔ تفصیلات کے مطابق میگا ایونٹ میں 14 ممالک کی ٹیموں کے درمیان کانٹے دار مقابلے ہونگے

مزید پڑھیے۔۔۔
 
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow

*********مختصر خبریں ********

  • مختصر پیغامات کے تبادلے کی ویب سائٹ ٹوئٹر تک رسائی کو پاکستان میں عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

  • اٹلی کے شمال میں آنے والے زلزلے میں کم سے کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

  • انگلش فٹبال کلب چیلسی نے جرمن کلب بائرن کو شکست دے کر یورپین چیمپئنز لیگ ٹورنامنٹ جیت لیا ہے۔

  • شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق دیر الزور شہر میں ایک خودکش کار بم حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

***ملٹی میڈیا سے انتخاب***

پاکستانی سیاسی ماحول پر ایک مزاحیہ میوزک ویڈیو
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow
  • An Image Slideshow

کھیل و کھلاڑی

  • پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئر مین توقیر ضیا نے کہا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ اور انٹرنیشنل کونسل کو رواں ہفتے انڈین پریمیئر لیگ میں اسپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کے انکشافات کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرنی چاہیے۔

    جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان کے تین کھلاڑیوں پر بھی ایسے ہی الزمات تھے جنہیں پابندیوں سمیت قید اور جرمانے کی سزائیں دے کر مثال بنایا گیا لہذا اب دیکھنا یہ ہے کہ آئی سی سی کا انسداد بدعنوانی کا یونٹ اور بھارتی بورڈ آئی پی ایل کے ان کھلاڑیوں کے خلاف کیا کارروائی کرتا ہے۔

    ’’ان پانچ لڑکوں پر بھی وہی الزام ہے جو پاکستانی کھلاڑیوں پر تھا اب دیکھنا یہ ہے کہ انھیں صرف معطل کیا جاتا ہے یا ان کو کچھ سزائیں بھی ہوتی ہیں۔‘‘

    رواں ہفتے بھارتی ذرائع ابلاغ میں انڈین پریمیئر لیگ میں شامل پانچ مختلف کھلاڑیوں کے اسپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ ان میں مہنیش مشرا، ٹی پی سدھندرا، امیت یادوو، شلبھ شریواستو اور ابھینو بالی شامل تھے۔

    آئی پی ایل کی انتظامیہ نے ان کھلاڑیوں کو معطل کردیا تھا جب کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے مقامی کرکٹ کو شفاف رکھنے کے لیے اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

    توقیر ضیا کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ صرف یہی پانچ لڑکے اس میں ملوث ہوں اور اگر کھیل کو ’پاک صاف‘ کرنا ہے تو باقی لوگوں کے بھی نام سامنے آنے چاہیئں۔

    ’’اگر وسیع بنیادوں پر تحقیقات کی جاتی ہیں اور اگر واقعتاً جانا چاہتے ہیں جو کہ وہ جا نہیں پائیں گے کیونکہ آئی سی سی پر بڑا رعب ہے انڈیا کا لیکن ہوسکتا ہے فرنچائز کے جو مالکان ہیں کچھ اور ایسے لوگ ملوث ہوں جن کا بعد میں پتا چلے گا۔‘‘

    پاکستان کے تین کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر اگست 2010ء میں انگلینڈ کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ میں اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر آئی سی سی نے کھیل میں پانچ سے دس سال کی پابندی لگائی تھی جب کہ لندن کی ایک عدالت نے انھیں قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی تھیں۔

    فاسٹ باؤلر محمد آصف اور محمد عامر اپنی سزائیں پوری کرکے قید سے رہا ہوچکے ہیں جبکہ سابق کپتان سلمان بٹ تاحال جیل میں ہیں۔

فن و ثقافت

  • جنوبی فرانس کے ساحلی قصبے کینز میں دنیا ئے فلم کا سب سے بڑا میلہ نئی سج دھج اور سحر انگیری کے ساتھ جاری ہے۔ یہ کینز کا 65 واں فلم فیسٹول ہے ۔ اس بار پاکستان کے لئے کینز فلم فیسٹول آسکر کی طرح ہی غیر معمولی طور پر اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پہلی بار مقابلے میں مختصر دستاویزی فلم کی کیٹیگری شامل کی گئی ہے۔

    اور اعزاز کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوان فلمساز ارسلان خان کی پروڈیوز کردہ دستاویزی فلم”دی کنگ ڈم آف وومن “ کو اس کیٹیگری کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔ ”دی کنگ ڈم آف وومن“ مینا بازار کراچی میں کام کرنے والی باہمت اور پرعزم خواتین سے متعلق ہے۔ اس کا انتخاب دس ہزاردستاویزی فلموں میں سے کیا گیا ہے ۔

    بھارت کی بات کی جائے تو اس سال چاربھارتی فلمیں نمائش کے لئے پیش کی جائیں گی جن میں سب سے زیادہ اہمیت دی جاررہی ہے ہدایت کار انوراگ کشیپ کی فلم ’گینگ آف واسع پور‘ کو۔

    ماضی میں دس مرتبہ کینز میں بھارت کی نمائندگی کرنے والی اداکارہ ایشوریا رائے اس بار بھی یہ اعزاز برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔ ان کے علاوہ اداکارہ سونم کپور اور بھارتی نژاد ہالی وڈ اداکارہ فریدہ پنٹو کو بھی اس میلے کی افتتاحی تقریب میں مدعو کیا گیا ۔

    تاہم فریدہ کے بارے میں اطلاعات یہ ہیں کہ اس بار وہ محفل لوٹنے میں ناکام رہیں حالانکہ وہ آسکر ایوارڈ کی تقریب میں سب سے اہم کردار اداکرچکی ہیں۔

    رنگوں اور روشنیوں کی چکاچوند میں ڈوبا کینز فیسٹول اپنی تما م تر رنگینوں کے ساتھ27 مئی تک جاری رہے گا جبکہ 16 تاریخ کو اس کی افتتاحی تقریب کی میزبان تھیں فرانسیسی اداکارہ بیری نائس بیجو ۔

    فلم سے وابستہ شخصیات تقریب میں شرکت کے لئے پہنچیں تو بڑی تعداد میں مداح ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بیتاب تھے۔ میزبان نے نو رکنی جیوری کا اعلان کیا جومقابلے میں شریک بہترین فلموں کے لئے ”گولڈن پام ایوارڈ“ کا فیصلہ کریں گی۔

    جیوری کے سربراہ ایکٹر اور ڈائریکٹر نانی مروتی ہیں۔ اس سال گولڈن پام ایوارڈ کے لئے 22 فلموں کے درمیان مقابلہ ہوگا جنہیں 4300 فلموں میں سے منتخب کیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب کے اختتام پر فلموں کی نمائش کا باضابطہ آغاز ہالی وڈ ڈائریکٹر ویس اینڈرسن کی نئی فلم ”مون رائز کنگڈم “سے ہوا۔ تقریب میں فلم میں شامل فنکاروں نے بھی شرکت کی۔

    فلم فیسٹول میں اس بار ٹریبیوٹ دیا ہے ہالی ووڈ بیوٹی مارلن منرو کو۔ جن کے پوسٹرنے فیسٹول میں جان ڈال دی۔ فیسٹول میں مارلن منرو پر بنائی گئی فلم” مائی ویک ود مارلن منرو“بھی شامل ہے۔

    میلے میں دنیا کے چوٹی کے فلم ڈائریکٹر اپنی اپنی فلموں کے ساتھ جمع ہیں ۔ فیسٹول کے نمائشی پوسٹرکو سجایا گیا ہے مشہور زمانہ امریکی اداکارہ مارلن منروکی تصویر سے۔

    ادھر فلمی دنیا کے بڑے بڑے ناموں سے سجی فلمیں مقابلے کی دوڑ میں شریک ایک دوسرے کو ’ٹف ٹائم ‘ دینے کے لئے تیار ہیں۔

    ”ٹوائلٹ“کے اداکاروں رابرٹ پیٹنسن اور کریسٹین اسٹیورٹ کی فلموں”کاسموپولیس“ اور آن دی روڈ“ کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ دوسری جانب جان کیوسیک ، زیک ایفرن اور نکول کڈمین کی اسٹا ر کاسٹ فلم ” دی پیپر بوائے “تیار ہے ہالی وڈ کے میگا اسٹار براڈ پٹ کی فلم ”کلنگ دیم سافٹ لی“کا سامنا کرنے کو۔

    اس بار پام ڈی اور جیوری کی قیادت اٹلی سے تعلق رکھنے والے نانی موریتی کر رہے ہیں جبکہ جیوری کے دیگر ارکان میں شامل ہیں برطانیہ کے ایون میک گریگر اور اینڈریا آرنلڈ۔ اداکارہ ڈیان کروگر اور فیشن ڈئیزائنر ژاں پال گیولیتر۔

    کین لوایچ کی کامیڈی فلم ”دی اینجلز شیئر“بھی مقابلے کی دوڑ میں شامل ہے۔کین گیارہ مرتبہ کینز فیسٹول میں ایوارڈ کے لئے نامزد ہو چکے ہیں تاہم قسمت کی دیوی صرف ایک ہی بار ان پر مہربان ہوئی تھی جب انھوں نے دو ہزار چھ میں اپنی فلم” دی ونڈ دیٹ شیکس دی بارلے“پر ایوارڈ جیتا تھا۔

    ماضی کے ایوارڈ ونرز مائیکل ہینکی اور یاک آیڈیئریڈ جو2009ء میں فلم” اے پروفٹ“کے لئے جیوریز گرینڈ پرائز جیت چکے ہیں ، وہ ایک با ر پھر ایوارڈ حاصل کرنے کے لئے پر امید ہیں۔

    کینیڈا کے ڈیوڈ کروننبرگ اپنی فلم کاسموپولیس “کے ساتھ میدان میں ہیں تو ان کے بیٹے برینڈن بھی موجود ہیں نئے ٹیلنٹ کی کیٹیگری میں اپنے بنائی گئی فلم” اینٹی وائرل “ کے ساتھ۔

    برطانوی خبر رساں ادارے کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق کینز فلمی میلے کی رونقیں اپنے عروج پر تو ہیں لیکن حسین اور دلکش چہروں اور گلیمر کی چکاچوند میں ڈوبا یہ میلہ بچ نہ پایا تنقید سے۔

    چند معروف خواتین فلم سازوں نے فرانسیسی اخبار ’لی موند‘ کو ایک خط لکھاجس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ خواتین کی بنائی ہوئی فلموں کو جان بوجھ کر شامل نہیں کیا گیا۔ میلے میں کوئی بھی ایسی فلم شامل نہیں کی گئی جو کسی خاتون کی تحریر کردہ کہانی پر مبنی ہو ۔نہ ہی کسی خاتون ہدایتکار کی فلم کو شامل کیا گیا ہے۔ایوارڈ کی دوڑ میں شامل بائیس کی بائیس فلمیں اتفاق سے مردوں کی تخلیق کردہ ہیں۔

1مختصر خبریں

  • برطانیہ ، آئرش ریپبلکن آرمی سے تعلق رکھنے والے7 افراد پر دہشت گردی کے الزامات میں فرد جرم عائدکر دی گئی

  • اٹلی میں 5.9شدت کا زلزلہ، تین افراد ہلاک ، 5 زخمی، متعدد مکانات اور عمارتیں متاثر

  • چن وانگ داؤ، چین – تاجک باکسر موضونا چوریئیفا نے 18 مئی کو انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کی ورلڈ ویمنز باکسنگ چیمپئن شپس میں 60 کلوگرام وزن کے زمرے می...

انٹرنیشنل

  • سرطان کی بیماری میں مبتلہ لیبیا کے سابق انٹیلی جنس عہدے دار جنھیں 1988ء کے لاکربی سانحے کے سرغنے کے طور پر سزا دی گئی تھی، طرابلس میں انتقال کرگیا ،  جس سے تقریباً تین برس قبل اُسے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسکاٹ لینڈ کے حکام نے جیل سے رہا کہا تھا۔
    عبدالباسط المگراہی کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اُن کا انتقال اتوار کے روز اُن کے اپنے گھر میں ہوا۔ اُن کی عمر 60برس تھی۔

    المگراہی  وہ واحد شخص تھاجسے اسکاٹ لینڈ کے لاکربی قصبے  کے اوپرپرواز کرنے والے امریکی مسافر طیارے  کی پرواز 103پر حملہ کرکے گرانے کا الزام ثابت ہوا اور اُسے سزا ہوئی۔ اِس واقع میں 270افراد ہلاک  ہوئے ، جن میں سے 11افراد کی ہلاکت ملبہ گرنے کے باعث ہوئی۔

    اسکاٹ لینڈ کی ایک عدالت نےمقدمے کی سماعت ایک غیر جانبدار ملک ہالینڈ میں کی،  اور 2001میں المگراہی کو ملوث پایا جس سے دو   برس  قبل ،  اُس وقت کے لیبیا کے لیڈر معمر قذافی نے اُسے  مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے نیدرلینڈ کے حوالے کیا تھا۔
    المگراہی نے اسکاٹ لینڈ کی جیل میں عمر قید کی سزا کے آٹھ سال گزارے،   جس کے بعد اسکاٹ لینڈ کے حکام نے انسانی  ہمدردی کی بنیاد  پر اُسے 2009ء میں رہا کیا ،  جس کا سبب  پروسٹیٹ کینسر کی بیماری بتائی گئی۔ اُس وقت اسکاٹ لینڈ کے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ وہ تین ماہ تک زندہ رہ سکتا ہے۔     
    المگراہی لیبیا واپس آیا تو قذافی کی حکومت نے اُس کا ایک ہیرو کے طور پر خیر مقدم کیا، جس کے باعث بمباری کے واقع میں ہلاک ہونے والے مسافروں کے متعدد لواحقین  کی طرف سے مذمتی  بیان سامنے آئے۔  امریکی حکومت نے بھی اُس کی رہائی پر تنقید  کی تھی۔

    استغاثے کا کہنا  تھا کہ المگراہی   بم حملے کی اُس خفیہ کارروائی کا ایک حصہ تھا جسے لیبیا کے انٹیلی جنس ادارے کے احکامات پر عمل میں لایا گیا۔

      اِس مقدمے میں پیش ہونے والے مالٹا کے ایک دکاندار کی گواہی کلیدی اہمیت کی حامل تھی،  جس میں اُنھوں نے اس راز سے پردہ اٹھایا تھا کہ اُن سے المگراہی  نے جو قمیض  خریدی تھی، اُسی میں اُس بم کو لپیٹا گیا تھا جو مسافر طیارے کی تباہی کا سبب بنا۔

    المگراہی نے قمیض خریدنے یا اُس حملے میں کسی کردار  ادار کرنے کی تردید کی تھی۔

تبصرے و تجزیے

  • سماجی رابطوں کی مشہور انٹرنیٹ کمپنی ’فیس بک ‘ نے اپنے شیئرز فروخت کے لیے مارکیٹ میں پیش کردیے ہیں۔ فیس بک کے بانی او رسربراہ مارک زوکربرگ نے جمعے کے روز کیلی فورنیا میں اپنی کمپنی کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر ایک بٹن دبا کر نیس ڈیک مارکیٹ میں حصص کی فروخت کا آغاز کیا۔

    موجودہ قیمت پر ’فیس بک‘ کی کل مالیت کا تخمینہ ایک سوارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اور مالیت کے لحاظ سے اس کا شمار چند بڑی امریکی کمپنیوں میں کیا جارہاہے۔

    گرین کرسٹ کیپیٹل کے ایک تجزیہ کار انوپم پیلٹ نے کہاہے کہ جب سوشل میڈیا کی بات ہوتی ہے تو کوئی اور کمپنی فیس بک کا مقابلہ نہیں کرسکتی جس کے اکاؤنٹ ہولڈرز کی تعداد کروڑوں میں ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ یہ اس شعبے کی سب سے بڑی کمپنی ہے اور یہ ان کمپنیوں سے بہت مختلف اور منفرد ہے جنہوں نے پچھلے سال اپنے شیئرز اسٹاک مارکیٹ میں پیش کیے تھے۔

    <!--IMAGE-RIGHT-->

    انٹرنیٹ کمپنیوں کے لیے حصص مارکیٹ میں جانے کا تجربہ کوئی زیادہ خوشگوار نہیں رہاہے اور عام لوگوں کے لیے اپنے شیئر ز پیش کیے جانے کے بعد ان کی مالیت میں کمی ہوتے ہوئی دیکھی گئی ہے۔ جس کی ایک نمایاں مثال لنکڈان، گروپون، زیانگا  ہیں۔

    مگر دوسری جانب گوگل  کے شیئرز 2004ء میں فروخت کے لیے پیش کیے گئے تھےاور ان کی قیمت 84 ڈالر تھی ، لیکن اب اس کا ایک شیئر تقریباً  600 ڈالر کا ہے۔

    فیس بک کے عروج کی کہانی بڑی دلچسپ ہے اور سماجی رابطوں کی اس کم عمر ویب سائٹ کو استعمال کرنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔

     اس ویب سائٹ کا آغاز فروری 2004ء میں امریکی یونیورسٹی ہاورڈ میں زیر تعلیم ایک نوجوان طالب علم مارک روکربرگ نے ہوسٹل کے اپنے کمرے سے کیا تھا۔ ویب سائٹ کا مقصد دوستوں کی سرگرمیوں اور رابطوں کو مربوط کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرناتھا۔

    <!--IMAGE-RIGHT-->

    فیس بک کے کاروبار میں پہلی سرمایہ کاری جون 2004ء میں  ایک سرمایہ کار پیٹر تھیل کی جانب سے پانچ لاکھ ڈالر سے ہوئی۔2007ء میں مائیکروسافٹ نے فیس بک سے 24 کروڑ ڈالرمالیت کے  شیئرزخریدے جس سے کمپنی کی مالیت 15 ارب تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد سے کمپنی میں ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اور 18 مئی 2012ء سے عام افراد کے لیے بھی سٹاک مارکیٹ میں شیئر ز فروخت کے لیے پیش کردیے گئے ہیں۔

    اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی  فروخت سے تقریباً 16 ارب ڈالر سرمایہ حاصل ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔

    فیس بک کے کارکنوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہے  جب کہ  کمپنی کی آمدنی کا تقریباً 80 فی صد حصہ اشتہارات سے حاصل ہوتا ہے۔

    فیس بک  کا دعویٰ ہے کہ دنیا بھر میں اس انٹرنیٹ پلیٹ فارم کو استعمال کرنے والوں کی تعداد 90 کروڑ سے زیادہ  ہے۔

    <!--IMAGE-RIGHT-->

    فیس بک کے بانی  اور سربراہ مارک زوکربرگ کی عمر اس وقت صرف 28 سال ہے اوراس کمپنی کے سربراہ کے طور پر کا م کررہے ہیں۔ فیس بک میں اپنے حصص  کی بنیاد پر ان دولت کا تخمینہ 24 ارب ڈالر ہے اور ان کا شمار دنیا کے چند امیر ترین نوجوانوں میں کیا جاتا ہے۔

    انہیں کمپنی کی طرف سے چھ لاکھ ڈالر تنخواہ دی جارہی تھی مگر اس سال سے ان کی تنخواہ ڈرامائی طورپر کم ہو کر محض ایک ڈالرہو جائے گی۔ مگر ایک ڈالر تنخواہ لینے والے  وہ واحد شخص نہیں ہیں، ان کے علاوہ اور بھی کئی بڑی امریکی کمپنیوں کے اعلی ٰ عہدے دار  ایک ڈالر سالانہ معاوضہ وصول کرتے ہیں، جن میں گوگل کے ایرک شمٹ اور لیری پیج ، کمپیوٹر اور ڈیجیٹل آلات بنانے والی کمپنی ایچ پی کے میگ وٹ مین  اور سافٹ ویر تیار کرنے والی ایک مشہور کمپنی اوریکل کے لیری ایلی سن شامل ہیں۔

    اپیل کمپنی کو شہرت اورفروخت میں عروج پر پہنچانے والی معروف شخصیت اسٹیو جابز، جن کا کچھ عرصے پہلے انتقال ہوا تھا، 1997ء سے محض ایک ڈالر سالانہ تنخواہ لے رہے تھے۔

    ایک ڈالر سالانہ تنخواہ کے فیصلے کے بعد مارک زوکربرگ کو فیس بک سے ملنے والی کئی اور مراعات سے دست بردار بھی ہونا پڑے گا۔ مثال کے طورپر انہوں نے ڈھائی لاکھ ڈالر چھ ماہ کا بونس ملا ہے جو  سالانہ پانچ لاکھ ڈالر کے لگ بھگ بنتا ہے۔ اسی طرح پچھلے سال انہوں نے کمپنی کا طیارہ  اپنے ذاتی استعمال میں رکھا جس تقریباً سات لاکھ ڈالر خرچ ہوئے تھے۔

جنوبی ایشیا

  • افغان حکام نے کہا ہے کہ ملک کے شمالی صوبے سری پُل میں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر کم از کم 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ہفتہ کو پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سے 50 سے زائد افراد لاپتا بھی ہیں۔

    صوبائی حکام نے بتایا کہ سیلابی ریلے کی وجہ سے 1,000 مکانات تباہ ہو گئے جب کہ کم از کم 6,000 افراد نے نسبتاً اونچائی پر واقع مقامات پر پناہ لے رکھی ہے۔

سائنس و صحت

  • زمین کے مدار میں گردش کرنے والے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب بھیجے جانے والے پرائیویٹ شعبے کے خلائی جہاز کی افتتاح پرواز تکنیکی خرابی کے باعث مؤخر کردی گئی ہے۔

    فلوریڈا کے کیپ کارنیوال زمینی مرکز سے ہفتے کو طلوع آفتاب سے قبل خلائی راکٹ کے ذریعے ’ ڈریگن کیپسول‘کی روانگی دوسری بار ملتوی کی گئی ہے۔

    نئے پروگرام کے تحت اسے منگل کی صبح دوبارہ روانہ کیا جائے گا۔

    کیپسول سفید رنگ کے ایک لمبے اور باریک راکٹ پر نصب کیا گیا ہے جو سپیس ایکس کمپنی کی ملکیت ہے۔ اس کیپسول کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے  لیے سامان بھیجا جارہاہے۔

    سپیس ایکس کمپنی کی سربراہ  گوین شاٹ ویل نے کہاہے کہ ایک کمپیوٹر کے ذریعے یہ پتا چلنے کے بعد کہ ایک انجن کے چیمبر میں دباؤ بہت زیادہ ہے، کمپنی نے پرواز مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس خرابی کی وجوہات کا تعین نہیں کیا جاسکا۔

    شاٹ ویل نے نامہ نگاروں کوبتایا کہ پرواز کے لیے راکٹ کے تمام نوانجن چلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ راکٹ میں نصب ڈریگن کیپسول  کی اس پرواز کے ذریعے، جسے ایک تجرباتی پرواز کہا جارہاہے، 544 کلوگرام سامان خلائی اسٹیشن پر بھیجا جارہاہے۔

    تاہم خلائی اسٹیشن کے عملے کو اس سامان کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔

    سیپس ایکس کمپنی کو خلائی پروازوں کے لیے امریکی خلائی ادارے ناسا نے 38 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رقوم فراہم کی  ہیں۔ ناسا نے اپنی خلائی شٹل گذشتہ سال ریٹائر کردی تھی۔ اور اب وہ روس کے خلائی جہازوں کےذریعے اپنے خلاباز اور سامابین الاقوامی خلائی اسٹیشن بھیج رہاہے۔

پاکستان

  • ترکی کے وزیرِ اعظم رجب طیب اردوان تین روزہ سرکاری دورے پر اتوار کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جہاں سیاسی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر بات چیت کی جائے گی۔

    پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی دعوت پر کیے جانے والے اس دورے میں مسٹر اردوان کے وفد میں سات ترک ورزاء بھی شامل ہیں۔

    پاکستان اور ترکی دوطرفہ تجارت کے سالانہ حجم کو دو ارب ڈالر کی سطح پر پہنچانے کے خواہاں ہیں اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے وزراء اعظم اعلیٰ سطحی تعاون کونسل کے اجلاس کی مشترکہ سربراہی بھی کریں گے، جس کے اختتام پر دونوں ممالک کی جانب سے پانچ معاہدوں پر دستخط کرنے کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

    مسٹر اردوان پیر کو خصوصی طور پر بلائے گئے پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی کریں گے۔

    یہ اجلاس ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستانی وزیرِ اعظم کو توہین عدالت کے جرم میں سزا کے بعد حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی مسلم لیگ (ن) نے پارلیمان کے اندر اور سڑکوں پر مسٹر گیلانی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کر رکھی ہے اور خصوصاً قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاسوں کے دوران ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی ہے۔

    لیکن مسلم لیگ (ن) کے مرکزی ترجمان سینیٹر مشاہد اللہ خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ترک وزیرِ اعظم کے پاکستانی پارلیمان سے خطاب کے موقع پر اپوزیشن جماعت کی حکمت عملی کے سلسلے میں قیادت صلاح و مشورے کر رہی ہے، اور حتمی فیصلے کا اعلان پیر کو اجلاس سے کچھ دیر قبل کیا جائے گا۔

    ’’ترکی ناصرف ہمارا برادر اسلامی ملک ہے بلکہ تاریخی طور پر ہمارا ایک روایتی رشتہ بھی ہے اور اس کے علاوہ نواز شریف اور اُن (مسٹر اردوان) کے قریبی تعلقات ہیں۔ تو حکمت عملی جو بھی ہو ایک چیز بنیادی ہے کہ اس بات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا کہ ترک وزیرِ اعظم کے احترام میں کسی قسم کی کمی نا ہو۔‘‘

    وزیرِ اعظم گیلانی نے اپنے ترک ہم منصب کے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیے میں پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سربرہان کو مدعو کر رکھا ہے، تاہم سینیٹر مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی شرکت کا معاملہ تاحال زیر غور ہے۔

    ترکی 28 رکنی نیٹو تنظیم کا رکن بھی ہے اور اس کے 1,300 سے زائد فوجی افغانستان میں امن و استحکام کی کوششوں میں شریک ہیں۔

    اس تناظر میں پاکستانی ذرائع ابلاغ توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ ترک وزیرِ اعظم پاکستانی پارلیمان سے خطاب اور سیاسی قیادت سے ملاقاتوں میں نیٹو سپلائی لائنز کی بحالی کا معاملہ بھی اُٹھائیں گے۔

    گزشتہ نومبر سلالہ کی سرحدی چوکی پر نیٹو کے فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے نیٹو کے قافلوں پر عائد پابندی کو ختم کرنے کے سلسلے میں پاکستانی اور امریکی عہدے داروں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جب کہ شکاگو میں نیٹو کے اہم اجلاس کے موقع پر تنظیم کے سربراہ اینڈرس فو راسموسن اور پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے مابین ملاقات میں بھی یہ موضوع زیر بحث آئے گا۔

امریکہ

  • افغانستان پر نیٹو کے دو روزہ سربراہ  اجلاس کا  آج اتوار کے دِن شکاگو میں آغاز ہورہا ہے۔  اجلاس مکامک پلیس کے  علاقے میں منعقد ہوگا، جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    نیٹو کا یہ ایک تاریخی اجلاس ہے، جس میں 60کے قریب ممالک کے سربراہان اور عالمی تنظیم کے راہنما شریک ہورہے ہیں۔  اس کے علاوہ،  پورے امریکہ سے مظاہرین نے شکاگو کا رُخ کیا ہے۔ اُن میں  جہاں ’اکیوپائی وال اسٹریٹ‘ کے  مظاہرین ہیں وہاں  جنگ کے خلاف مظاہرین بھی ہیں۔

    انتظامیہ نے اس پورے علاقے کو کالے رنگ کے لوہے کے ایک جنگلے سے گھیر رکھا  ہے۔ پورے شہر میں ہزاروں کی تعداد میں  پولیس والے تعینات ہیں۔

    نیٹو کے اس اجلاس میں تین اہم نکات پر بات ہوگی۔ پہلی بات یہ کہ افغانستان میں 2014ء کے بعد نیٹو کا مشن کیا ہوگا؟ دوسری بات یہ کہ امریکہ اور یورپ کی معیشت کو دیکھتے ہوئے نیٹو کےاخراجات آئندہ کس طرح پورے کیے جائیں گے، اور تیسرے یہ کہ نیٹو کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ وہ دنیا میں اکیلے نہیں چل سکتا۔ اور یہ کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ  اس بات پر غور و خوض کیا جائے کہ دنیا کی دیگر تنظیموں اور ممالک سےنیٹو کے تعلقات کس طرح مضبوط کیے جائیں۔

    امید کی جارہی ہے کہ یہ مظاہرے پُر امن ہوں گے، لیکن اس کے باوجود مقامی اسٹوروں اور مقامی  کاروباروں نے اپنی کھڑکیوں کے آگے لکڑی کے پھٹے لگا دیے ہیں،  تاکہ تشدد پھوٹ پڑنے کی صورت میں  وہ توڑ پھوڑسے بچ سکیں۔

    اگرچہ، پُر امن مظاہرے متوقع ہیں لیکن چونکہ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین اور پولیس والے اس شہر میں جمع ہیں اس لیے اگر کہیں تشدد پھوٹا تو حالات بگڑ بھی سکتے ہیں۔